نئی دہلی 6 /اپریل (ایس او نیوز/ ایجنسی ) راجیہ سبھا میں بھی جی ایس ٹی بل (گُڈس اینڈ سروس ٹیکس یعنی اشیاء و خدمات ٹیکس) پاس ہو گیا ہے، اب اس پر صرف صدرجمہوریہ کی دستخط باقی ہے۔ جمعرات شام راجیہ سبھا سے جی ایس ٹی سے جُڑے چاروں بلوں کی منظوری مل گئی. اس سے اب صاف ہو گیا کہ 1 جولائی سے ملک بھر میں جی ایس ٹی نافذ کر دیا جائے گا. وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بدھ کو جی ایس ٹی سے منسلک 4 نظر ثانی بل راجیہ سبھا میں پیش کئے تھے.
منموہن سنگھ نے تاریخی قرار دیا
اپوزیشن کی ترمیم کی مانگ کو مسترد کرتے ہوئے جی ایس ٹی بل 29 مارچ کو لوک سبھا سے پاس ہو چکا ہے. راجیہ سبھا سے جی ایس ٹی کے پاس ہونے کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 'تاریخی' قرار دیا منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ کی طرف سے جی ایس ٹی بل کی منظوری کو سراہتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس بل کو میں اپنے دور اقتدار میں منظور نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ جو ہوگیا سو ہوگیا۔ منموہن سنگھ نے اپنے مشاہدہ کی بنیاد پر کہا کہ نیا بالواسطہ ٹیکس گیم چینجر ہوسکتا ہے، مگر انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکس کے نفاذ میں مشکلات آسکتی ہیں۔ منموہن سنگھ نے زور دیا کہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے میں مرکزی اور ریاستی حکومت کے درمیان اصلاحی تعائون ہونا چاہئے
منی بل کے طور پر GST بل پیش
جی ایس ٹی سے منسلک چار بلوں مرکزی جی ایس ٹی، انٹیگریٹڈ جی ایس ٹی، یونین ٹیریٹری جی ایس ٹی اور كمپنسیشن جی ایس ٹی بل کو راجیہ سبھا نے بغیر ترمیم کے پاس کر دیا. آئینی ترمیم بل جی ایس ٹی کو منی بل کی طرح پیش کیا گیا تھا مرکزی حکومت ایک جولائی سے جی ایس ٹی نافذ کرنا چاہتی ہے. اس کے بعد ملک میں صرف ایک ٹیکس لگے گا. اس کے لئے ٹیکس کی سلیب بھی طے ہو گیا ہے. قریب 14 سال پہلے شروع کی گئی بالواسطہ ٹیکس اصلاحات کی مہم پر لوک سبھا نے پہلے ہی رضامندی کی مہر لگا دی ہے.
بل کا کریڈٹ سب کو جاتا ہے-وزیر خزانہ
راجیہ سبھا میں بل پر بحث کے دوران سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا، 'یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ اس بل کا کریڈٹ کسی شخص یا حکومت کو نہیں بلکہ سب کو جاتا ہے.
4 سلیب میں ہوں گے ٹیکس
لوک سبھا میں جی ایس ٹی پر بحث کرتے ہوئے جیٹلی نے بتایا تھا کہ جی ایس ٹی کے تحت کھانے پینے کے ضروری سامانوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا. یعنی، پہلی ٹیکس سلیب صفر ہوگا جبکہ دوسرا سلیب- %5 اور تیسرا سلیب %12 اور %18 کا ہے. اس کے علاوہ عیش و آرام کے ٹیکس سلیب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے- ٹیکس اور سیس. اس میں ٹیکس کی شرح 28 فیصد ہو گی.